رافضی کی حقیقت اور ان کے عقائد
![]() |
| aqaid rafzi |
:رافضی.
اِن کے مذہب کی کچھ تفصیل اگر کوئی دیکھنا چاہے تو ’’تحفۂ اِثنا عشریہ‘‘ دیکھے، چند مختصرباتیں یہاں گزارش کرتا ہوں ۔
صحابۂ کرام رضی اﷲ تعالیٰ عنہم کی شان میں یہ فرقہ نہایت گستاخ ہے، یہاں تک کہ اُن پر سبّ و شتم ان کا عام شیوہ ہےبلکہ باستثنا ئے چند سب کو معاذ اﷲ کافر و منافق قرار دیتا ہے۔ حضرات خلفائے ثلٰثہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہم کی ’’خلافتِ راشدہ‘‘ کوخلافت ِغاصبہ کہتا ہے اور مولیٰ علی رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے جو اُن حضرات کی خلافتیں تسلیم کیں اور اُن کے مَدائح و فضائل بیان کیے، اُس کو تقیّہ وبُزدلی پر محمول کرتا ہے۔ کیا معاذاﷲ! منافقین و کافرین کے ہاتھ پر بیعت کرنا اور عمر بھر اُن کی مدح و ستائش سے رطب اللسان رہنا شیرِ خدا کی شان ہو سکتی ہے۔۔۔؟! سب سے بڑھ کر یہ کہ قرآنِ مجید اُن کو ایسے جلیل و مقدّس خطابات سے یاد فرماتا ہے، وہ تو وہ، اُن کے اتباع کرنے والوں کی نسبت فرماتا ہے: کہ اﷲ اُن سے راضی، وہ اﷲ سے راضی۔ کیا کافروں ، منافقوں کے لیے اﷲ عزوجل کے ایسے ارشادات ہوسکتے ہیں ۔۔۔؟! پھر نہایت شرم کی بات ہے کہ مولیٰ علی کرّم اﷲ تعالی وجہہ الکریم تو اپنی صاحبزادی فاروقِ اعظم رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کے نکاح میں دیں اور یہ فرقہ کہے: تقیۃً ایسا کیا۔ کیا جان بوجھ کر کوئی مسلمان اپنی بیٹی کافر کو دے سکتا ہے۔۔۔؟! نہ کہ وہ مقدس حضرات جنھوں نے اسلام کے لیے اپنی جانیں وقف کر دیں اور حق گوئی اور اتباع حق میں { لَا يَخَافُوْنَ لَوْمَةَ لَآىِٕمٍ١ؕ }کے سچے مصداق تھے۔ پھر خود حضور سید المرسلین یکے بعد دیگرے حضرت عثمن ذی النورین رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کے نکاح میں آئیں اور صدیق و فاروق رضی اﷲ تعالیٰ عنہما کی صاحبزادیاں شرفِ زوجیت سے مشرف ہوئیں ۔ کیا حضور (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) کے ایسے تعلقات جن سے ہوں ، اُن کی نسبت وہ ملعون الفاظ کوئی ادنیٰ عقل والا ایک لمحہ کے لیے جائز رکھ سکتا ہے۔۔۔؟! ہرگز نہیں !، ہرگز نہیں !۔
اِس فرقہ کا ایک عقیدہ یہ ہے کہ ’’اﷲ عزوجل پر اَصلح واجب ہے یعنی جو کام بندے کے حق میں نافع ہو، اﷲ عزوجل پر واجب ہے کہ وہی کرے، اُسے کرنا پڑے گا۔‘‘
ایک عقیدہ یہ ہے کہ ’’ائمۂ اَطہار رضی ا ﷲ تعالیٰ عنہم، انبیا علیہم السلام سے افضل ہیں ۔‘‘ اور یہ بالاجماع کفر
ہے، کہ غیرِ نبی کو نبی سے افضل کہنا ہے۔
ایک عقیدہ یہ ہے کہ ’’قرآن مجید محفوظ نہیں ، بلکہ اُس میں سے کچھ پارے یا سورتیں یا آیتیں یا الفاظ امیر المؤمنین عثمن ا غنی رضی اﷲ تعالیٰ عنہ یا دیگر صحابہ رضوان اﷲ تعالیٰ علیہم نے نکال دیے۔‘‘ مگر تعجب ہے کہ مولیٰ علی کرّم اﷲ تعالیٰ وجہہ نے بھی اُسے ناقص ہیچھوڑا۔۔۔؟!
اور یہ عقیدہ بھی بالاِجماع کفر ہے، کہ قرآن مجید کا اِنکار ہے۔

