امام احمد رضا اور علم حدیث
اور عبقری العلوم تھے. علوم نقلیہ وعقلیہ میں ہر علم وفن کے امام تھے بلکہ یوں کہا جائے تو حق ہے آیۃ من آیات رب العالمین اور معجزۃمن معجزات سیدالمرسلین کے صحیح مصداق تھے ۔
آپ نے اپنے دور کی ہرطاغوتی طاقت کا اس کے محاذ پر مقابلہ کیا اور جب جس علم کی ضرورت پیش آئ اس میدان میں باطل قوتوں سے نبرد آزمارہے، چودہ سوسال سے جتنے علوم وفنون اہل اسلام کے درمیان موضوع سخن چلے آرہے تھے ان میں ہر فن کی جلوہ سامانیاں آپ کی تصانیف میں ہزاروں صفحات پر ضوفشاں ہیں ۔طالبان حق انکی تصانیف کا جس رخ سے مطالعہ کریں بیش ہا اور قیمتی معلومات کا خزانہ پائیں گے
یہی وجہ ہے کہ اپنے اور بےگانے ان کے فضل وکمال کا خطبہ پڑھتے نظر آتے ہیں اور موفقین اور مخالفین انکی عبقریت کی شہادت دیتے ہیں -
امام احمد رضا نے کتنے علوم پر اپنی یادگار تصانیف چھوڑی. انکا احاطہ اہل تحقیق اب تک نہیں کر سکے کوئ پچپن کہتا ہے کوئ ان کی تعداد ستر اور کوئ اسی بیان کرتا ہے. بلکہ اب تو بعض محققین دوسو سے اوپر کی بات لکھ رہے ہیں. بہرحال اس مختصر مقالہ میں تمام علوم وفنون پر سر حاصل گفتگو مشکل ہے.
امام احمد رضا خان محدث بریلوی کے تعلق سےبعض مخالفین کایہ پروپیگنڈہ بھی کہ وہ علم حدیث میں کوتاہ علم اور تہی دامن تھے. لیکن انکی تحریروتقریر سے مستفیض ہونے والے چشم دید گواہ کہتے ہیں سماعت فرمائیں
محدث اعظم ہند حضرت علامہ سید محمد کھچوچھوی فرماتے ہیں:
علم حدیث کا اندازہ اس سے کیجئے کہ جتنی حدیثیں فقہ حنفی کی مآخذ ہیں ہروقت پیش نظر، اور جن حدیثوں سے فقہ حنفی پر بظاہر زدپڑتی ہے اسکی روایت ودروایت کی خامیاں ہر وقت ازبر، علم حدیث میں سب سے نازک شعبہ علم اسماالرجال کا ہے، اعلی حضرت کے سامنے کوئ سند پڑھی جاتی اور راویوں کے بارے میں دریافت کیا جاتا تو ہر راوی کی جرح وتعدیل کے جو الفاظ فرمادیتے، اٹھا کردیکھا جاتا تو تقریب وتہذیب میں وہی لفظ مل جاتا. اسکو کہتے ہیں علم راسخ اور علم شغف کامل اور علمی مطالعہ کی وسعت -
حفظ حدیث اور علم حدیث میں مہارت تامہ کامشاہدہ کرنا ہے تو آپ کی تصانیف کا مطالعہ کر کے ہرذی علم اسکا اندازہ کرسکتا ہے.
1303ھ میں مدرسۃ الحدیث پیلی بھیت کے تاسیسی جلسہ میں علمائے سہارنپور، لاہور، کانپور، رامپور، بدایوں کی موجودگی میں حضرت محدث سورتی کی خواہش پر حضرت فاضل بریلوی نے علم حدیث پر متواتر تین گھنٹوں تک پرمغز اور مدلل کلام فرمایا، جلسہ میں موجود سارے علمائے کرام نے حیرت واستعجاب کے ساتھ سنا اور کافی تحسین کی ۔مولوی خلیل الرحمٰن بن مولوی محدث احمد علی محدث سہارنپوری نے تقریر ختم ہونے پر بے ساختہ آٹھ کر فاضل بریلوی کی دست بوسی کی اور کہا :کہ اگر اس وقت والد ماجد ہوتے تو وہ علم حدیث میں آپ کے تبحرعلمی کی دل کھول کر داد دیتے اور انہیں کو اس کا حق تھا-
محدث سورتی اور مولوی محمدعلی مونگیری بانی ندوۃ العماءنے بھی اسکی پرزور تائید کی - اس واقعہ سے حفظ حدیث اور علم حدیث میں آپ کی عظمت کا اندازہ ہوتا ہے کہ مشاہیر علما کے جم غفیر میں بھی آپ کا محدثانہ مقام ہر ایک کو تسلیم تھا-
علم حدیث کے متعدد شعبے ہیں. محدثین نے انکی تعداد ایک سو سے متجاوز بتائ ہے.
اجمالی طور پر ان تمام شعبوں کو دو قسموں میں محصور کیا جاسکتا ہے ۔یعنی روایت حدیث ۔اور ۔درایت حدیث ۔
روایت حدیث کا مطلب ہے احادیث کا متن اور ان کی عبارت والفاظ کو محفوظ کرلینا. اور درایت حدیث کے دو شعبے ہیں :
1:معانی ومطالب حدیث کو بیان کرنا -
2: روایان حدیث اور طرق احادیث سے بحث کرنا- روایت حدیث کا مشغلہ قرن اول سے ہی جاری ہے، صحابہ کرام کے دور میں بےشمار نفوس قدسہ اس میدان میں نظر آتے ہیں ۔ان میں بعض حضرات کو غیر معمولی شہرت حاصل ہوئ۔مثلا حضرات خلفائے اربعہ ۔حضرت عبداللہ بن مسعود، حضرت عبداللہ بن عباس، حضرت ابوہریرہ، حضرت عبداللہ بن عمر، حضرت عبداللہ بن عمرو، حضرت ابوسعیدخدری، حضرت ابو موسی اشعری، حضرت عبداللہ بن زبیر، ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ، ام المومنین حضرت ام سلمہ ۔وغیرھم رضی اللہ تعالیٰ عنھم وعنہن
ان حضرات نے حضور علیہ السلام کے اقوال وافعال اور شب و روز اس انداز سے اپنے سینوں میں محفوظ فرمائے کہ خود یہ حضرات بھی اسی سانچے میں ڈھل گئے اور اپنے عمل وکردار سے لوگوں کو دعوت عام دی اور تبلیغ دین متین کا فریضہ انجام دیا -
محدثین نے ہر دور میں روایت حدیث کو اپنا مشغلہ بنایا جو کچھ انہوں نے اپنے مشائخ سے سنا دوسروں تک پہنچایا. بعض حضرات نے سینوں میں محفوظ کرنے کے ساتھ ساتھ صحفہ قرطاس پر بھی منتقل کیا
ہزاروں کتابیں لکھی اور لاکھوں احادیث کے حفظ وضبط کا اہتمام کیا
محدثین میں ایسے بےشمار حضرات ہوئے جن کو ایک لاکھ اور دو لاکھ احادیث زبانی یاد تھیں اور نہایت ضخیم کتابیں انھوں نے محض اپنی یاد داشت سے تحریر فرمائیں
فرماتے ہیں کہ امام بخاری کو چھ لاکھ حدیثیں یاد تھیں، انہیں سے انتخاب کر کے آپ نے صحیح بخاری مرتب فرمائ ۔امام احمد بن حنبل کو ساڑھے سات لاکھ احادیث زبانی یاد تھیں ۔مسند امام احمد آپ کی یادگار موجود ہے۔دوسرے محدثین کے کارنامے بھی بہایت عظیم الشان پیمانے پر علم وعرفان کی محفل کی زینت ہیں۔
امام احمد رضا محدث بریلوی جب کسی مسئلہ پر احادیث نقل فرماتے ہیں تو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ چودہ سال کی متداول کتب احادیث آپ کو ازبر ہیں اور موضوع سے متعلق احادیث تحریر فرماتے جارہے ہیں انباءالحی عربی زبان میں خود آپ کی مشہور کتاب الدولۃ المکیہ کی نظر خامس پر حاشیہ ہے جو نہایت طویل اور اصل کتاب سے تقریباً چارگنا ہوگا ۔بڑے بڑے سائز کے ساڑھے چار سو صفحات پر پھیلاہوعظیم الشان حاشیہ علم حدیث کا بحرذخاراور ٹھاٹھیں مارتا سمندر ہے ۔اس کتاب میں تقریباً پانچ سو احادیث مزکور ہیں اور سیکڑوں کتب حدیث کے حوالے ۔
امام احمد رضا بریلوی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کثیر تعداد میں کتب احادیث تصنیف فرمائ ہے اور ہر شعبے میں انہوں نے کام کیا ہےجب جس علم کی ضرورت پیش آئ اس علم میں آپ ضرور کام کیا جتنے علوم فنون اہل اسلام کے درمیان موضوع سخن چلے آرہے تھے ان میں ہر فن کی جلوہ سامانیاں آپ کی تصانیف میں ہزاروں صفحات پر ضوفشاں ہیں
صرف اس مقالے میں تو علم حدیث میں جو ان کا کارنامہ رہا ہے اس کے حوالے سے چند ہی نمونے پیش کئے گئے ہیں ۔
راقم الحروف محمد وسیم اکرم رضوی متعلم دارالعلوم رضویہ جےپور

